بنگلورو،18؍مارچ(ایس او نیوز) ریاستی کانگریس قائدین لوک سبھا انتخابات میں عمدہ کارکردگی کے ذریعہ عمدہ نتائج حاصل کرکے 20سے زائد سیٹیں جیتنے کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ ریاست میں بہترین کارکردگی کے مقصدسے ریاستی قائدین اے آئی سی سی کے صدر راہل گاندھی کو ریاست کے کسی حلقہ سے امیدوار بناکر میدان میں اتارنے کے لئے اصرار کرتے آرہے ہیں۔18مارچ بروز پیر انتخابی مہم کے تحت کلبرگی آرہے راہل گاندھی کو ریاست سے چناؤ لڑنے کے لئے دوبارہ دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔
بروز اتوار اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈوراؤ نے کہا کہ کرناٹک سے لوک سبھا چناؤ لڑنے کے لئے راہل گاندھی سے خواہش کی گئی ہے۔ وہ کل یہاں آرہے ہیں، اس لئے دوبارہ ان سے خواہش کرتے ہوئے کرناٹک سے انتخاب لڑنے کا اصرار کیا جائے گا ۔ انہوں نے بھروسہ دیتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کرناٹک کے کسی بھی حلقہ سے چناؤ لڑیں، شمالی کرناٹک سے ہو یا جنوبی کرناٹک سے۔ کسی بھی حلقہ سے وہ میدان میں آتے ہیں تو ہم تمام مل کر ان کو جیت دلائیں گے۔ جنوبی ہندوستان میں کانگریس کی جڑیں مضبوط کرنے کے مقصدسے راہل گاندھی پر اصرار بڑھتا جارہا ہے۔ راہل گاندھی اگر کرناٹک سے چناؤ لڑتے ہیں تو اس کا مثبت نتیجہ نہ صرف کرناٹک میں بلکہ تملناوڈ،کیرلا، پدوچیری ، گوا ،آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں میں بھی پڑے گا اور ان ریاستوں میں پارٹی کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔اسی طرح بی جے پی کے خلاف کانگریس جدوجہد مزید مسابقتی ہوجائے گی۔ راہل گاندھی سے کل کلبرگی میں کرناٹک سے انتخاب لڑنے کے تعلق سے اپنا موقف واضح کرنے کی امیدکی جارہی ہے۔ بی جے پی کے خلاف تمام مرحلوں میں کانگریس قائدین جوابی حکمت عملی طے کرنے میں مصروف ہیں۔ راہل کی لہر نہ صرف کرناٹک میں بلکہ پڑوسی ریاست تملناڈو ،کیرلا، پدوچیری میں بھی دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے موقع پر کرناٹک سے سب سے زیادہ یعنی 9 حلقوں میں کانگریس کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ اس مرتبہ مخلوط پارٹیاں مل کر دوگنی جیت درج کرنے کی کوشش میں ہیں۔ شمالی ہندوستان کے ہندی بیلٹ والے علاقوں میں کانگریس کو تھوڑی بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ حال ہی کے اسمبلی انتخابات میں عمدہ کارکردگی سے پارٹی میں جوش کی نئی لہر چل پڑی ہے۔ اترپردیش میں دلت نائک چندر شیکھر آزاد سے پرینکا گاندھی کی ملاقات نے دلت وپسماندہ طبقات کو متاثر کیاہے۔ اسی طرح گجرات میں پائیدار طبقہ کے لیڈرہاردک پٹیل کی کانگریس میں شمولیت سے پارٹی میں مثبت اثرات دیکھے جارہے ہیں۔ اترپردیش میں پارٹی کو آگے لے جانے کے لئے کئی نوجوان اور سینئر قائدین ہیں، اس لئے راہل گاندھی جنوبی ہندوستان کو مرکز توجہ بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ یہاں سے امیدوار بنتے ہیں تو جنوبی ہندوستان میں اس کا مثبت اثرپڑے گا۔ ان تمام مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈوراؤ، کانگریس لیجس لیچرس پارٹی(سی ایل پی) کے قائد سدارامیا ودیگر قائدین راہل گاندھی سے کرناٹک سے انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کررہے ہیں۔
میسوروسے انتخاب: سدارامیا نے میسور پارلیمانی حلقہ سے میدان میں اترنے کی راہل سے خواہش ظاہر کی ہے۔ کرشنا بائرے گوڈا نے بنگلور نارتھ سے انتخاب لڑنے کی درخواست کی ہے۔ اس طرح ٹمکور یا حیدرآبادکرناٹک علاقہ سے چناؤلڑنے کا راہل پر دباؤ ڈالاجارہاہے۔ کے پی سی سی کے کارگزار صدر ایشور کھنڈرے نے بیدر لوک سبھا حلقہ سے انتخاب لڑنے کا اصرار کیا۔ اس درمیان یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ راہل گاندھی کو بنگلور سنٹرل حلقہ سے امیدوار بنائے جانے پر غور ہورہا ہے۔ اس حلقہ میں کانگریس کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے راہل گاندھی کو میدان میں لانے کی بھر پور کوشش ہورہی ہے۔ لیکن اب تک راہل نے اپنا موقف ظاہر نہیں کیا۔ پرچہ نامزدگی کرنے میں ابھی دودن باقی ہیں۔ کون کہاں سے انتخاب لڑسکتے ہیں، ابھی کچھ کہانہیں جاسکتا۔